انٹرنیشنل

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 58 فلسطینیوں کی تدفین، غربِ اردن میں جھڑپیں

غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تدفین کے بعد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ مظاہرے پیر کو ہونے والے مظاہروں سے بہت کم ہیں جن میں کم از کم 58 فلسطینی ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کرا رہا ہے تاکہ حالت قابو میں آ سکیں۔ تاہم زیرِ قبضہ غربِ اردن میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کی تدفین اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر ہو رہی ہے۔ یہ وہ دن ہے جسے فلسطینی ‘نکبہ’ قرار دیتے ہیں، جس کا مطلب ہے تباہی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

پیر ہی کو امریکہ نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کیا تھا۔ اس متنازع منصوبے کی بہت سے ملکوں نے مخالفت کی تھی۔

غزہتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت ہے اور وہ اس اقدام کو اسرائیل کے تمام شہر پر قبضے کی امریکی پشت پناہی سمجھتے ہیں۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 27 سو سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس نے اس واقعے کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ یہ غزہ میں 2014 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے مہلک ترین دن تھا۔

تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی فوج کے اقدامات کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ وہ غزہ کی شدت پسند تنظیم حماس کے خلاف اپنا دفاع کر رہی تھی۔

غزہ میں کل ہوا کیا؟

غزہتصویر کے کاپی رائٹEPA
Image captionاسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر بے دریغ اسلحے کا استعمال کیا

فلسطینیوں نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران 40 ہزار کے قریب لوگ اسرائیلی سرحد پر لگے جنگلے پر 13 مقامات پر مشتعل ہو گئے۔

انھوں نے پتھر اور جلتی ہوئی چیزیں پھینکیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے اس کا جواب فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں سے دیا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے ‘دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں پر فائرنگ کی ہے نہ کہ مظاہرین پر۔ مظاہرین کو آنسو گیس جیسے عام طریقوں سے منتشر کیا گیا۔’

یروشلم میں امریکی سفارت خانہ

عالمی رد عمل

امریکہ: وائٹ ہاؤس کے ترجمان راج شاہ نے کہا: ‘ان افسوسناک اموات کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ حماس جان بوجھ کر یہ ردِ عمل پیدا کر رہی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس: ان کے ترجمان نے تنبیہ کی ہے کہ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے سے مشرقِ وسطیٰ مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ‘اس اقدام سے امریکی انتظامیہ نے امن کے عمل میں اپنا کردار منسوخ کر دیا ہے اور دنیا، فلسطینی عوام، اور عرب دنیا کی بے عزتی کی ہے۔’

فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی وافا کے مطابق پی ایل او کی ایکزیگٹیو کمیٹی کے رکن وصل ابو یوسف نے فلسطینی علاقوں میں ‘مکمل ہڑتال’ کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین: کے خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘غزہ کی باڑ کے نزدیک جاری مظاہروں میں درجنوں فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے سب سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی توقع کرتے ہیں۔’

فرانس: کے صدر امانوئل میکخواں نے بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی جارحیت کی مذمت کی ۔

ایوانکاتصویر کے کاپی رائٹREUTERS
Image captionامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سفارت خانے کے افتتاح کے موقعے پر اسرائیل پہنچیں

اقوام متحدہ: کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ زید رعد الحسین نے ‘اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کی موت’ کی شدید مذمت کی۔

ترکی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں امریکہ اور اسرائیل پر اس جارحیت کا مشترکہ الزام عائد کیا اور اپنے سفیر دونوں ممالک سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔

ترکی: کے علاوہ جنوبی افریقہ نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘اندھادھند اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔’

انسانی حقوق کی تنظیمیں: ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ نے اسرائیل فوج کی جانب سے طاقت سے استعمال کی مذمت کی ہے۔

غزہ کے مرکزی ہسپتال شفا میں پیر کے روز زخمی ہونے والے افراد کو خون کا عطیہ دینے کے لیے قطاروں میں لوگ کھڑے ہیں۔

مزید دیکھائیں
Close