پاکستان

’اجمل قصاب بھارت کا مہرہ تھا اسی لیے پاکستان کو رسائی نہیں دی گئی تھی‘

اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما رحمٰن ملک نے ممبئی حملہ کیس کے مرکزی مجرم اجمل قصاب کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ بھارت کا اپنا مہرہ تھا اس لیے ان تک پاکستان کو رسائی نہیں دی گئی۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے ریاستی عناصر بھیج کر پاکستان میں دہشت گردی کرواتا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممبئی حملہ مکمل طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے کروایا، یہ را کا اسٹنگ آپریشن تھا۔

سابق وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ ’میں نے اس وقت کے بھارتی ہم منصب سے کہا تھا کہ ممبئی حملہ کیس کے حوالے سے ثبوت دیں، میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کروں گا‘۔

رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ انہوں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

اپنی پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی پریس کانفرنس میں کوئی الزام تراشی نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ کسی کے خلاف ہوگی۔

سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیرِاعظم نواز شریف قوم پر رحم کریں گے اور اپنا بیان واپس لیں گے، اور میں امید کرتا ہوں کہ نواز شریف اپنے بیان کو واپس لے کر وضاحت پیش کریں گے‘۔

غیر ریاستی عناصر کی بات کرتے ہوئے رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ ’نان اسٹیٹ ایکٹرز وہ ہوتے ہیں جن کو حکومت کی پشت پناہی نہیں ہوتی‘۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس بیان کو غداری سے منسوب کرتے ہوئے نواز شریف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی قائد کے بیان کو بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور بدقسمتی سے پاکستان الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے بھارتی پروپیگنڈے کی توثیق کردی۔

خیال رہے کہ پاک فوج کی ‘تجاویز’ پر ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا میں ‘گمراہ کن’ بیانات پر مشاورت کے لیے 14 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

بعدِ ازاں 14 مئی کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔

مزید دیکھائیں
Close