پاکستان

احسن اقبال سرجری کے بعد آئی سی یو منتقل

لاہور: وزیردارخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو 2 سرجریوں کے بعد لاہور کے سروسز ہسپتال کے انتہائی نہگداشت یونٹ (آئی سی یو) منتقل کردیا گیا۔

سروسز کے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امیر نے بتایا کہ احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے، لیکن پھر بھی انہیں آئندہ 24 گھٹے کے لیے نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہنا تھا کہ وزیرِ داخلہ کا مکمل صحتیابی تک علاج جاری رہے گا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ڈاکٹرز نے احسن اقبال کو لگنے والے گولی کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس کے نکالنے کے عمل کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گولی احسن اقبال کی کوہنی کی جوڑ کو نقصان پہنچاتی ہوئی ان کے پیٹ میں داخل ہوئی تھی۔

احسن اقبال کے علاج پر مشاورت کے لیے 5 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے جس میں 2 سرجن، 2 آرتھوپیڈک سرجن اور ایک ادویات کے پروفیسر شامل ہیں۔

خیال رہے کہ 6 مئی کو نارووال کے علاقے کنجروڑ میں وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

احسن اقبال کو زخمی حالت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) نارووال لے جایا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

حملہ آور نے احسن اقبال پر 15 گز کی دوری سے فائرنگ کی تھی، تاہم وہ جیسے ہی دوسری گولی چلاتے، اس سے قبل وہاں موجود لوگوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو قابو کرلیا۔

پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرکے اس کے پاس موجود پستول کو قبضے میں لے لیا، بعدِ ازاں ملزم کو پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

ملزم کا تحریک لبیک پاکستان سے تعلق کا انکشاف

ڈپٹی کمشنر نارووال کی جانب سے چیف سیکریٹری پنجاب کو بھیجی گئی واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کا تعلق تحریک لبیک پاکستان سے ہے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 22 سالہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ختمِ نبوت کے معاملے کی وجہ سے احسن اقبال کو مارنے کی کوشش کی تھی۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) نارووال عمران کشور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حملہ آور کا نام عابد حسین ہے جو نارروال کے ایک قریبی گاؤں کا رہائشی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کے پاس 30 بور کا پستول تھا جس سے اس نے وزیرداخلہ پر فائرنگ کی تھی۔

تحریک لبیک پاکستان کی مذمت

ادھر تحریکِ لبیک پاکستان کے قائدین علامہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل وزیرِ داخلہ پر ہونے والے اس حملے کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

تحریک لیبیک کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی پُر امن مذہبی سیاسی جماعت ہے جو سیاسی جدوجہد اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی طرح کے تشدد کی حامی نہیں ہے۔

مزید دیکھائیں
Close