انٹرنیشنل

سعودی عرب: ’ہزاروں افراد کی مقدمات کے بغیر جبری حراست‘

دبئی: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب کے طاقتور ترین ولی عہد محمد بن سلمان پر سخت تنفید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہزاروں افراد کو سالوں سے مقدمات کے اندراج کے بغیر ہی قید کر رکھا ہے۔

اس سلسلے ہیومن رائٹس واچ نے وزارت داخلہ سے حاصل سرکاری اعداد وشمار کا جائزہ لیا اور بتایا کہ 2 ہزار 3 سو 5 افراد بغیر کسی عدالتی کارروائی کے 6 ماہ سے زائد عرصے سے قید ہیں۔

جبکہ ایک ہزار 8 سو 7 افراد ایک سال سے زائد عرصے سے اور 2 سو 51 افراد 3 سال سے زائد عرصے سے قید ہیں اور اب بھی ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شخص 10 سال سے قید ہے جو بظاہر جبری حراست کا کیس ہے۔

واضح رہے کہ جون 2017 میں محمد بن سلمان کے ولی عہد نامزد ہونے کے بعد سے ان کی قیادت میں انتہائی قدامت پسند سمجھا جانے والا ملک سعودی عرب تبدیلیوں اور اصلاحات کے دور سے گزر رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو جبری طور پر قید نہ رکھا جائے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ سالوں میں جبری حراستوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپ کی مشرق وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارا لیہہ وہٹسن کا کہنا تھا کہ اگر سعودی حکام بغیر کسی الزام کے لوگوں کو اسی طرح مہینوں قید رکھ سکتے ہیں تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ سعودی عدالتی نظام اب موثر نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کا وژن 2030 بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بجائے بغیر کسی الزام کے لوگوں کو لمبے عرصے تک قید رکھنے کے حوالے سے ہے۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030 کا مقصد سعودی عرب کا تیل کی پیداوار سے انحصار کم کرکے ملک میں سرمایہ کاری لانا ہے، اور اس سلسلے میں ملک میں اب تک کی سب سے بڑی اصلاحات کے نفاذ کا منصوبہ جاری ہے۔

اس منصوبے میں تیل کی سب سے بڑی پیداواری کمپنی آرامکو کی جزوی نجکاری اور ملازمتوں میں خواتین کی تعداد بڑھانا بھی شامل ہے، جبکہ رواں سال جون سے سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی مل جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب بھی سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے۔

مزید دیکھائیں
Close