پاکستان

’قابلِ رحم حالت سے گزرتی پاکستانی سیاست‘

اگلے عام انتخابات کے لیے 3 قومی آپشن موجود ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان میں سے 2 کی قیادت وہ 'رہنما' کر رہے ہیں جنہیں بالترتیب پاکستان کا دوسرا اور چوتھا امیر ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ اپنی بیرونِ ملک موجود پوشیدہ دولت کے ساتھ یہ دونوں ڈالروں میں ارب پتی ہیں۔ تیسرے آپشن کا نمائندہ وہ رہنما ہے جو امیر ترین ہونے کے قریب بھی نہیں۔

اگلے عام انتخابات کے لیے 3 قومی آپشن موجود ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان میں سے 2 کی قیادت وہ ‘رہنما’ کر رہے ہیں جنہیں بالترتیب پاکستان کا دوسرا اور چوتھا امیر ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ اپنی بیرونِ ملک موجود پوشیدہ دولت کے ساتھ یہ دونوں ڈالروں میں ارب پتی ہیں۔ تیسرے آپشن کا نمائندہ وہ رہنما ہے جو امیر ترین ہونے کے قریب بھی نہیں۔

یہ قابلِ قبول نہیں ہے کہ ملک کا دوسرا اور چوتھا امیر ترین شخص اس ملک کی قیادت کریں جس کے عوام کو غریب اور جاہل رکھ کر ان سے منافع کمایا گیا ہے۔ ان کی زبردست ذاتی دولت اعلیٰ ترین عوامی عہدوں پر رہتے ہوئے بنی۔

ان تینوں کے علاوہ 3 دیگر ووٹنگ آپشن بھی ہیں: ووٹ نہ ڈالیں؛ صرف مستحق آزاد امیدواروں کو ووٹ دیں یا ‘ان میں سے کوئی بھی نہیں’ پر نشان لگائیں۔ یہ ووٹنگ آپشن ضرور ہونا چاہیے۔ اس پر نشان لگانے والے ایک واضح سیاسی مؤقف کا اظہار کریں گے کہ وہ کسی کو بھی اپنے ووٹ کا حقدار نہیں سمجھتے۔

پاکستان میں چل رہے سیاسی ڈرامے میں فی الوقت کوئی بھی اچھا نہیں ہے، سوائے ظلم و ستم کے شکار عوام کے۔ ہیروز کی بات کی جائے تو ان کی اتنی قلت ہے کہ انہیں بنانا پڑتا ہے۔ نایاب، اصلی ہیروز وہ موتی ہیں جو لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، امید فراہم کرتے ہیں اور مستقبل کے امکانات کا چہرہ ہوتے ہیں۔ انہیں شدید اور مسلسل نفرت اور بدکلامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس میں حیرت کی بات نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ، سیاست اور ریاست کی طاقتوں کو معلوم نہیں کہ بالکل گراس روٹ سطح سے اٹھنے والی پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی ایک حقیقی تحریک کے ساتھ کیا کیا جائے۔ بلوچستان سنڈروم (عزت اور انصاف کے لیے جدوجہد) اب خیبر پختونخوا اور فاٹا تک آپہنچی ہے اور ممکنہ طور پر یہ پورے پاکستان تک پھیلے گی۔ یہ دولتِ اسلامیہ سنڈروم کو حتمی جواب ہوگا۔

پاکستانی سیاست قابلِ رحم حالت سے گزر رہی ہے جس میں صرف مشکوک اور بدنام سیاستدانوں کی بیان بازیاں ہیں؛ مسائل پر معقول اور دیانت دار بحث کے بجائے الزامات اور گالیاں دی جاتی ہیں؛ پارلیمنٹ غیر فعال ہے؛ طاقت کے مراکز سے چمٹا رہا جاتا ہے؛ تفریقی، انتہاپسند اور خصوصی مفادات کی پالیسیوں کے لیے مذہب کا استعمال کیا جاتا ہے؛ جہالت کو علم قرار دیا جاتا ہے؛ ناقابلِ فہم کرپشن اور دھوکہ دہی موجود ہے؛ الیکشن صرف مشکلات کے شکار لوگوں کے لیے تفریح ہیں؛ گمشدگیاں، تشدد اور لاشیں؛ جھوٹ، بدترین جھوٹ اور اعداد و شمار؛ اور اشرافیہ کے دلوں میں خوف کہ کہیں عام پاکستانی اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے نہ ہوں۔

وہ لوگ جن پر تحفظ کی ذمہ داری ہے، وہ بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کو غیرت اور مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں، انتہاپسندوں اور ریپ کرنے والوں سے بچانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ نہ ہی انہوں نے امداد دینے والے ممالک کے ملکی خود مختاری کے خلاف مطالبوں سے پاکستان کے خود مختار مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ اس دوران میڈیا کو بھی اپنی اوقات میں رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

ان بنیادوں پر جمہوریت قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کوشش ہی مشکوک ہوگی۔ اشاروں یا اشاروں کے بغیر دہشتگرد فیصلہ کرتے ہیں کہ کون بحفاظت مہم چلا سکتا ہے اور کون نہیں۔ 2013ء میں جو آپشن ہمیں دستیاب تھے، آج بھی تقریباً وہی ہیں۔ مگر حالات بدل چکے ہیں اور ترجیحات بھی تبدیل ہوچکی ہوں گی۔

مگر سب سے بہترین آپشن اب بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ یعنی وہ بنیادی سطح کی تحریکیں جو پاکستان کے غریبوں، استحصال کی شکار اور محروم اکثریت کی ترجیحات کو فروغ دینے کی تحریکیں ہیں۔ دعوؤں کے باوجود یہ بات یقینی نہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت خود کو ایسی تحریک کی معتبر نمائندہ قرار دے سکتی ہے۔ پی ٹی ایم ابھی تک سیاسی جماعت نہیں ہے۔

شرافیہ کی ترجیحات مسلط کرنے کے لیے اشرافیہ کی مداخلت نے ملک کی سیاسی اور اقتصادی ترقی کو تہہ و بالا کردیا ہے۔ اس طرح کی مداخلتوں نے جمہوری فقدان بڑھایا ہے، احساسِ عدم تحفظ کو مزید گہرا کیا ہے اور ملک کو بے فائدہ کاموں میں الجھا دیا ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے۔ کچھ قیمتی لوگوں کے علاوہ ہمارے زیادہ تر چیمپیئنز اس حقیقت کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔

نسبتاً ایماندار غیر ارب پتی رہنما کے پاس بظاہر انتخابات جیتنے کا سب سے بہترین موقع ہے بھلے ہی ان کی مقبولیت میں مبینہ طور پر کمی آ رہی ہے، خاص طور پر پڑھی لکھی نوجوان مڈل کلاس میں۔ جیت سے اس لیڈر کو نئے امکانات کے دروازے کھولنے کا موقع ملے گا۔ یہ آسان کام نہیں ہوگا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر بے چہرہ ‘فیصلہ سازوں’ کا اثر ہے۔ یہ فیصلہ ساز انہیں اسکرپٹ سے ہٹنے نہیں دیں گے۔ وہ انہیں دور نکل جانے سے روکنے کے لیے اتحاد اور دیگر حکمتِ عملیاں استعمال کریں گے۔

اس سے جلد یا بدیر وہ توقعات ٹوٹیں گی جو لوگ ان سے وابستہ کر بیٹھے ہیں۔ اس دوران 2050ء اپنی تمام تر مشکلات کے ساتھ ہمارے سر پر آ کھڑا ہوگا اور ہمارے پاس وہاں تک ٹھیک حالت میں پہنچنے کے لیے کوئی قومی توانائی بھی نہیں ہوگی۔ اگر ایسی سیاست ہو تو آپ کو دشمنوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ان حالات میں ‘جمہوریت’ کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ جمہوریت کے حامیوں کے درمیان راستے اور مقصد کے بارے میں اختلافات موجود ہیں۔ جمہوریت کا مقصد راستے پر منحصر ہے مگر یہ خود ایک راستہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک سیاسی حالت ہے جبکہ اس تک پہنچنے کا راستہ ایک سیاسی تحریک ہے۔ جمہوریت اچھی حکمرانی اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والے سیاسی مرحلوں سے حاصل ہوتی ہے۔

اس طرح کی تحریکوں کے بغیر جمہوریت کی کوششیں اور انتخابات صرف جمہوریت کو درپیش مشکلات میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے برابر ہیں۔ یہ کوئی ‘سیکھنے کا عمل’ نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ ایک دھوکہ ہے جو ہمیں ٹھوس ترقی اور مستحکم جمہوریت کی جانب جانے سے روکتا ہے۔

روایتی معاشروں میں جدید جمہوریت بعد میں آتی ہے، اور اس سے پہلے کثیر السطحی جدوجہد اور انسانی ترقی کے ذریعے سماجی و سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہندوستان جزوی طور پر مستثنیٰ ہوسکتا ہے، مگر زیادہ امکان ہے کہ نہیں۔ فوری ترقی ایک ٹیکنالوجیکل مرحلہ ہے، یہ سیاسی اور سماجی مرحلوں کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ آپ ایک ہدایت نامہ یا بلیوپرنٹ چرا سکتے ہیں مگر سیاسی تجربہ، سماجی تاریخ اور دانا قیادت نہیں چرا سکتے۔ سماجی و سیاسی جدوجہد کے بغیر ٹیکنالوجیکل ترقی صرف معاشی ناہمواریوں اور سماجی تفریق کو بڑھاتی ہے۔

اسی طرح سے جمہوریت کی نقل کرنا اور انتخابات کا پردہ فراہم کرنے سے سیاسی نظام نہیں فروغ پاسکتا اور عوام کو طویل عرصے سے گھیری ہوئی محرومیوں کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ انتخابی اونچ نیچ کے باوجود اس طرح کے انتخابات صرف موجودہ استحصالی نظام کو مضبوط کرتے ہیں جس سے پاکستان سیاسی طور پر ناخوشگوار ملک بن چکا ہے۔

کمزور ریاستوں کو اس طرح کے سچ سے نفرت ہوتی ہے۔ جمہوریت چاہے جھوٹی ہو یا نہیں، ان کے لیے مقدس گائے ہی سمجھی جاتی ہے۔ مگر لی کوان یو (Lee Kuan Yew) کے مطابق جمہوریت رولز رائس گاڑی کی طرح ہے۔ اگر آپ اس کا خرچ برداشت کرسکتے ہیں تو یہ سڑک پر موجود سب سے بہترین گاڑی ہے۔ ورنہ یہ بدترین سرمایہ کاری ہے۔

پاکستان کے ‘جمہوری رہنما’ اپنی رولز رائس چلاتے ہیں جبکہ عوام ٹول ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سیاسی گہماگہمی چاہے جتنی بھی، مگر پاکستان میں انتخابات کا تب تک کوئی مطلب نہیں جب تک کہ وہ ان تحریکوں کے ساتھ مجتمع نہیں ہوجاتے جو انتخابات ہوتے ہی ختم نہ ہوجائیں۔

انتخابات صرف اعلیٰ عہدوں کے لیے ہوتے ہیں۔ تحریکیں پاکستان کے لیے ہوتی ہیں۔


یہ مضمون ڈان اخبار میں 5 مئی 2018 کو شائع ہوا۔

مزید دیکھائیں
Close