انٹرنیشنل

کیا یہ مغرب کا چہرہ ہے؟ امریکی پادری نے تیسرے ملک جا کر 60 کم سن لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، لیکن کیسے؟ جانئے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) عموماً دیکھا گیا ہے کہ جنسی درندگی کے ملزم اخلاق باختہ اوباش طینت لوگ ہوتے ہیں لیکن امریکہ میں ایک ایسے شخص پر 60بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آ گئے ہیں کہ آدمی دنگ رہ جائے۔ سٹار ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ امریکی جزیرے ’گوام‘ کا معروف پادری ہے، جس کا نام لوئس بروئیلارڈ ہے۔ اس کے خلاف 60مردوں نے مقدمات درج کروائے ہیں جن میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بچپن میں اس پادری نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

کیتھولک پادری کے خلاف ان الزامات نے بحرالکاہل کے چھوٹے سے گوام جزیرے پر کھلبلی مچا دی ہے۔ لوئس کی عمر اس وقت 96سالہ ہے اور اس کی ہوس کا شکار بننے والے بچے اب عمر کی تیسری اور چوتھی دہائی میں ہیں۔ ان میں سے ایک نے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ ’’بچپن میں لوئس کی جنسی زیادتی نے میری زندگی ہی برباد کر ڈالی، میں آج تک بچپن کے ان واقعات کے باعث شرمساری کے ساتھ زندہ ہو، آج بھی اکثر میرے ذہن میں وہ مناظر کسی خوفناک فلم کی طرح چلتے رہتے ہیں اور مجھے ذہنی اذیت سے دوچار رکھتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ چند سال قبل امریکی ریاست منیسوٹا میں بھی ایک ایسا ہی سکینڈل سامنے آ چکا ہے جہاں کئی پادریوں نے سینکڑوں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

مزید دیکھائیں
Close