پاکستان

‘ضرورت پڑی تو تحریک انصاف سے اتحاد ممکن ہے جیسا سینیٹ میں ہوا‘

لاہور: ایک جانب حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ سینیٹ انتخابات کی طرح پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما ثمینہ خالد گُھرکی کی والدہ کی وفات پر تعزیت کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھاکہ عام انتخابات کے بعد اگر حالات کا تقاضا ہوا تو ہم عمران خان کے ساتھ اتحاد کرسکتے ہیں جس طرح ہم نے سینیٹ میں کیا۔

اس موقع پرانہوں نے معروف کہاوت ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کو حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پی پی پی اتحادی حکومت بنانے کے بجائے اپوزیشن نشستوں کو فوقیت دے گی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ عمران خان کو وزیراعظم بننے کی جلدی ہے، لیکن مجھے ایسی کوئی جلدی نہیں، کیوں کہ میں اس سے قبل نہ صرف صدارتی محل بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں بھی رہ چکا ہوں۔

خلائی مخلوق سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کے متنازع بیان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ خلائی مخلوق کون ہے، کیا یہ وہی خلائی مخلوق ہے جس نے 1988 کے انتخابات میں نوازشریف کا ساتھ دیا تھا؟۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ اصغر خان کیس کھولنے کے لیے تیار تھی جس میں نواز شریف نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

پی پی پی ماضی کے بہترین تعلقات کے برعکس اب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟ کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو اور رہنما بے نظٰر بھٹو کی پروان چڑھائی گئی جمہوری قدروں کو نقصان پہنچایا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے خود جمہوریت کے لیے 11 سال جیل میں گزارے ۔

اس موقع پر انہوں نے نواز شریف کو مغل شہزادہ سلیم سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے طرزِحکومت سے نہ صرف ہماری ساری جدوجہد پر پانی پھیر دیا بلکہ جمہوریت کو بھی کمزور کیا،اس سے بڑا کیا جرم ہوگا؟

اپنے اور بلاول کے طرز سیاست میں فرق کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ہماری سیاست میں فرق ہونا فطری ہے، کیوں کہ بلاول صرف کی عمر محض 29 سال جبکہ میری 60 سال سے زائد ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے عام اتخابات کے تاخیر ہونے کے امکانات کو رد کیا۔

مزید دیکھائیں
Close