پاکستانسندھ

نواب شاہ میں گرمی کا عالمی ریکارڈ کیسے بنا؟

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وسطی ضلع نواب شاہ میں رواں ہفتے 30 اپریل کو گرمی کا درجہ حرارت 52 سیلسیئس تک جا پہنچا جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہ اپریل میں اس قدر درجۂ حرارت اس سے قبل کرہ ارض پر کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

نواب شاہ شہر کی آبادی میں گذشتہ ایک دہائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں بڑے پیمانے پر پکے مکانات کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی اداروں کے دفاتر کی بھی تعمیر ہوئی ہے۔

نواب شاہ کے بزرگ شہری صالح بلو کا کہنا ہے کہ جس طرح حیدرآباد کی ٹھنڈی راتیں مشہور تھیں اسی طرح موسم سرما میں نواب شاہ میں شام اور رات کو ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں اور بالائی سندھ کے اضلاع جیکب آباد اور شکارپور سے خاص طور پر لوگ یہاں آتے تھے۔

‘ایس ایم خوجہ روڈ، سکرنڈ روڈ، عید گاہ، قاضی احمد روڈ اور گاجرا روڈ سمیت ہر گلی میں درخت ہوتے تھے اب تو ان کا نام و نشان بھی مٹ گیا ہے، شہر کے باہر باغات ہوتے تھے، لیکن آْبادی بڑھنے کے ساتھ یہ باغات ختم ہوگئے اور وہاں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن گئی ہیں۔ دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے میں گھنے جنگلات تھے جو 60 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے تھے اب بمشکل 12 ہزار ایکڑ پر جنگلات ہوں گے، ان پر قبضہ کر کے زمین پر کاشت کاری کی جا رہی ہے۔

صالح بلو کے مطابق نواب شاہ میں کئی تعلیمی اور تحقیقی ادارے قائم ہوئے ہیں جس وجہ سے دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع کے لوگوں نے یہاں کا رخ کیا ہے، یعنی جو آبادی دو لاکھ تھی اس وقت 11 لاکھ تک جا پہچی ہے۔

نواب شاہ کراچی سے تقریبا 250 کلومیٹر دور قومی شاہراہ پر واقع ہے، اور یہ مرکزی ریلوے لائن کا ایک مصروف سٹیشن بھی ہے۔ اس علاقے میں گنے، کیلے، گندم کے علاوہ کپاس کی کاشت کی جاتی ہے جب کہ آس پاس میں نوشہروفیروز، مٹیاری اور خیرپور اضلاع واقع ہیں ہیں، اسی طرح دریائے سندھ کے دوسرے طرف دادو اور جامشورو اضلاع موجود ہیں۔

نواب شاہ

ماہر ماحولیات ندیم میر بحر کا کہنا ہے کہ کراچی سے آتے ہوئے نواب شاہ کے دائیں جانب پہاڑی سلسلہ موجود ہے جہاں سے جو گرمی نکل رہی ہے وہ اس خطے پر اثرات مرتب کرتی ہے اس کے علاوہ مشرقی طرف خیر پور ضلع ہے جس کے ساتھ بھارت کی صحرائی ریاست راجستھان واقع ہے وہاں سے اٹھنے والی گرم ہوا بھی یہاں تک اثر دکھاتی ہے۔ چونکہ یہ علاقہ سمندر سے دور ہے اس وجہ سے وہاں کی ٹھنڈی ہوائیں یہاں تک نہیں آتیں۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر چوہدری قمر زمان نواب شاہ میں درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی موسمی تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ خطہ بالخصوص پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث گرمی کے رجحان میں شدت زیادہ ہے۔

‘بلوچستان اور سندھ خشک سالی کی طرف جا رہے ہیں، پاکستان میں موسم سرما کی مدت بڑھ رہی ہے اور سردیاں کم ہو رہی ہے، جیسے سندھ میں اپریل میں درجہ حرارت شدید تھا لیکن شمالی علاقوں اور پنجاب میں سرد لہر آئی جس سے درجہ حرارت میں کمی ہوئی۔ یہ تمام عوامل موسمی تبدیلوں کا مظہر ہیں لیکن اس حوالے سے نہ خطے میں اور نہ ہی پاکستان میں اقدامات کیے گئے ہیں۔’

محکمہ موسمیات کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت کے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے جس کی نشاندہی پہلے ہی ہو چکی ہے۔

نواب شاہ

’پاکستان میں بننے والے گرمی کے دباؤ کا مرکز سندھ میں ہے، جس میں نواب شاہ، نوشہرو فیروز، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور بلوچستان کے علاقے سبی پر مشتمل ہے جہاں ہوا کا دباؤ کم ہے۔ ان علاقوں میں پہلے ہی بہت گرمی ہوتی ہے جب نواب شاہ میں 52 سیلسیئس پر درجہ حرارت پہنچا تو آس پاس میں بھی 49 اور 50 سیلسیئس تھا، اب آنے والے ہر سالوں میں نئے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔‘

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق موسمی تبدیلیوں کا نگران ادارہ انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چیئنج ہر چھ سال کے بعد زمین کے درجہ حرارت اور موسمی تبدیلی کے بارے میں رپورٹ پیش کرتا ہے، جس میں دنیا بھر کے سائنس دان مشورے اور تجاویز دیتے ہیں یہ فورم پہلے ہی نشاندہی کر چکا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسمی شدت میں مزید اضافہ ہو گا۔

مزید دیکھائیں
Close