پاکستانسندھ

”آپ کا شاگرد ہوں، یہ لکھوادیں کہ مجھے سننے کا حق تاحیات ختم ہوگیا ہے“ توہین عدالت کیس میں وکیل نے ایسی بات کہہ دی کہ چیف جسٹس سمیت پورے بینچ نے کلاس لگادی، فیصل رضا عابدی کے ساتھ کیا ہوا؟ خبر آگئی

توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران فیصل رضا عابدی کو عدالت میں غیر مناسب انداز میں کھڑے ہونے اور ان کے وکیل کو غیر ضروری بحث کرنے پر سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔

توہین عدالت کیس میں سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ عدالت میں غیر مناسب انداز میں کھڑے ہونے پر چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کردی اور کہا کورٹ میں کھڑے ہونے کے آداب اور تمیز ہوتی ہے، وکیل صاحب! یہ آپ کے موکل کے کھڑے ہونے کا انداز ہے؟، فیصل رضا عابدی کا عدالت میں کھڑے ہونے کا انداز دیکھ لیں ، انہیں اپنے کیے پر کوئی پشیمانی یا شرمندگی نہیں ہے، عدالت کے وقار کا پتا ہونا چاہیے ، انہوں نے ابھی تک معافی نہیں مانگی، فیصل رضا عابدی نے پروگرام میں کیا کہا وہ دیکھ لیتے ہیں۔ عدالت میں فیصل رضا عابدی کی توہین آمیز ویڈیو چلائی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا فیصل رضا عابدی کہتے ہیں چیف جسٹس ملک کو تباہ کر رہا ہے، یہ توہین عدالت نوٹس میں جواب داخل کریں۔

فیصل رضا عابدی کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے 2 درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم دونوں درخواستیں خارج کرتے ہیں۔ فیصل رضا عابدی کے وکیل نے کہا لارڈ شپ! پھر یہ لکھوادیں کہ مجھے سننے کا حق تاحیات ختم ہوگیا ہے۔

وکیل کی جانب سے اس انداز میں بات کرنے پر پورے بینچ کی جانب سے سخت اظہار برہمی کیا گیا ، چیف جسٹس نے کہا آپ ہیں کون؟ آپ اس کورٹ میں پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی وکیل کی سرزنش کی اور کہا کیا آپ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کمنٹری کم کریں ، کیس پر آئیں۔

فیصل رضا عابدی کے وکیل نے کہا ’میرا نام ڈاکٹر امجد حسین بخاری ہے اور میں کراچی سے آیا ہوں‘۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا میں نے آپ کا نام کسی فیصلے میں نہیں پڑھا۔ وکیل نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ مجھے نہیں جانتے، آپ ہی نے لائسنس دیا تھا، آپ ہی کا شاگرد ہوں ، چیف جسٹس نے کہا مجھے یاد نہیں ہے۔

مزید دیکھائیں
Close