پاکستانخیبر پختونخوا

”منظور پشتین نے آرمی پبلک سکول سے تعلیم حاصل کی ،اب اگر وہ غصے میں ہے تو ۔۔۔“کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی انہیں داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے

ورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے احکامات کی روشنی میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے مذاکرات کے لیے ایک جرگہ بنا لیا گیا ہے جس نے منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جرگے میں سیاستدان اور بااثر قبائلی مشیران شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے، اس نے آرمی پبلک سکول سے تعلیم حاصل کی ہے لیکن اگر وہ غصے میں بھی ہے تو ہم انہیں سنیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ منظور پشتین کے بعض مطالبات جائز ہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات آئین اور قانون کی روشنی میں حل کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم سے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے جبکہ منظور پشتین کی سول و فوجی حکام سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ منظور پشتین میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہے۔

قبائلی علاقوں میں امن و امان سے متعلق بات کرتے ہوئے کور کمانڈر نے کہا کہ فاٹا میں کسی بھی مقام پر کوئی خطرہ موجود نہیں، البتہ صرف پاکستان اور افغانستان کے مابین بین الاقوامی سرحد پر کسی حد تک خطرہ موجود ہے اور افغانستان میں موجود بعض غیر ملکی ایجنسیاں ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سارا فوکس اس وقت دونوں ممالک کے مابین بارڈر منیجمنٹ پر ہے اور اب تک 147 قلعہ نما چیک پوسٹیں قائم کی جا چکی ہیں جبکہ 21 تکمیل کے مراحل میں ہیں اور سرحد پر خاردار تاریں لگانے کا کام بھی پوری تیزی سے جاری ہے۔کور کمانڈر نذیر احمد بٹ کے مطابق فاٹا میں جون 2018 تک 30 فیصد چیک پوسٹیں ختم ہو جائیں گی جبکہ صوبے کا حصہ بننے کے بعد وہاں کی پہاڑی پوسٹیں اپنے پاس رکھ کر تمام شہری چوکیاں سول اداروں کے حوالے کر دی جائیں گی۔

مزید دیکھائیں
Close